ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / افغانستان میں متحارب گروہ طبی مراکز پر حملے کر رہے ہیں: اقوام متحدہ

افغانستان میں متحارب گروہ طبی مراکز پر حملے کر رہے ہیں: اقوام متحدہ

Mon, 22 Jun 2020 16:58:25    S.O. News Service

واشنگٹن،22/جون (آئی این ایس انڈیا) اتوار کو جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں 15 ایسے پرتشدد واقعات کا ذکر کیا گیا ہے، جن کا نشانہ صحت کے مراکز تھے۔ رپورٹ کے مطابق عالمگیر کرونا وبا کے پیش نظر یہ خطرناک رجحان ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کی خصوصی رپورٹ میں افغان حکومت کی فورسز اور طالبان پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کی وبا کے دوران ہیلتھ ورکرز اور صحت کے مراکز پر جان بوجھ کر حملے کر رہے ہیں۔

اب تک تقریباً 29 ہزار افغانی اس مرض کا شکار ہوئے ہیں اور 600 اموات ہوئی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چونکہ وہاں ٹیسٹنگ کی سہولتیں ناکافی ہیں، اس لیے یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ میں مارچ سے اب تک پندرہ ایسے واقعات کی دستاویزی شہادت پیش کی گئی ہے، جس کے مطابق ہیلتھ کیئر نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں زیادہ حملے طالبان نے کیے۔

اس رپورٹ میں افغان سیکیورٹی فورسز کو بھی تین حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک واقعے میں دونوں فورسز کی جھڑپ کے دوران ایک مرکز لپیٹ میں آ گیا۔

اقوام متحدہ کے امدادی مشن کی رپورٹ میں دانستہ کیے جانے والے ان حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وبائی مرض سے نمٹنے لیے پہلے ہی افغانستان کے پاس وسائل ناکافی ہیں اور ایسے حالات میں ہیلتھ ورکرز اور مراکز کو نشانہ بنانے سے یہ سہولتیں اور بھی کم ہو جائیں گی۔

رپورٹ میں 12 مئی کو ہونے والے اس حملے کا بطور خاص ذکر کیا گیا، جس میں ایک زچہ بچہ اسپتال کو نشانہ بنایا گیا، جسے بین الاقوامی گروپ ڈاکٹرز ود ایوٹ بارڈرز چلا رہا تھا۔ اس کے نتیجے میں اس مرکز کو بند کرنا پڑا۔

اقوام متحدہ کے امدادی مشن کی سربراہ ڈیبرا لیونز کا کہنا ہے کہ ایک ایسے موقعے پر جب ہر افغانوں کی زندگی بچانا ایک دشوار مشن ہے، افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے یہ حملے ہمارے کام پر کاری ضرب کے مترادف ہیں۔


Share: